نشاطِ شوق سے دامن بھرا نہیں ہے تو کیا
نظر تو آیا وہ مجھ سے ملا نہیں ہے تو کیا
گلی پہ کھلنے لگا نیم وا دریچہ بھی
چراغ جلنے لگا ہے ، ہوا نہیں ہے تو کیا
چمن سے دور بھی ہوتے ہیں ہنستے بستے درخت
کوئی پرندہ اُدھر دیکھتا نہیں ہے تو کیا
میں روز جس کے لیے پھول لے کے جاتا ہوں
وہی دریچہ مرا آشنا نہیں ہے تو کیا
بہت اُڑا ہے جہاں میں غبار وحشت کا
یہ بار ہم سے ابھی تک اٹھا نہیں ہے تو کیا
ہم آتے جاتے ہوئے راستے میں ملتے ہیں
یہ رابطہ بھی کوئی سلسلہ نہیں ہے تو کیا
